مقامی آن لائن اخبار چترال ٹائمز ڈاٹ کام کو ہیک کرنے والا نوجوان گرفتار؛ ایف آئی اے نے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا

چترال (چ،پ) چترال کے معروف آن لائن اخبار‘‘چترال ٹائمز ڈاٹ کام‘‘کے ہیکر کو ایف آئی اے کی ٹیم نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کر دیا ہے۔ ہیکر عمیر حیدر کا تعلق چترال شہر کے مقام گولدور سے ہے جس نے حال ہی میں بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد سے سافٹ وئیر انجینئرکی ڈگری حاصل کی ہے۔ گذشتہ روز ایف آئی اے کی ٹیم نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا اور آلات سمیت ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم ہیکر عمیر حیدر نے ابتدائی طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے تاہم مزید تفتیس کیلئے اُسے نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مزید انکشافات کی توقع کی جارہی ہے۔ ایف آئی اے کی سائبر کرائم انوسٹیگشن ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر اور انسپکٹر شہنشاہ شامل تھے جنہوں نے ملزم کو رنگے ہاتھوں آلات سمیت گرفتار کر لیا۔ اخبار چترال ٹائمز کے چیف ایڈیٹر سیف الرحمن عزیز کے مطابق ہیکر گذشتہ ایک سال سے اخبار کو ہیک کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن گیارہ ستمبر کے بعد مکمل طور پر اخبار پر قبضہ جما لیا اور یوں انہوں نے اخبار پر اپنی مرضی کی خبریں اور غیر مناسب مواد شائع کرتا رہا جس سے لاکھوں قارئین اخبار سے محروم ہو گئے اور خود اُنہیں شدید ذہنی، مالی اور کاروباری نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیق کرنے کیلئے اُنہیں کئی اداروں کی مدد حاصل کرنی پڑی اور انتہائی پریشانی میں مبتلا رہے۔ تاہم ایف آئی نے بالاخر ہیکرکو گرفتار کرکے اُس سے اقبال جرم کروا لیاہے۔ اور اُن سے جملہ آلات و مواد حاصل ہو چکے ہیں۔ جو اخبار کو ہیک کرنے میں استعمال ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہیکر اکیلا نہیں ہے۔ اسے کسی نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا ہوتاہم ہیکر نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیک شدہ اخبار کو سماج دُشمن سرگرمیوں، فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور ملکی سالمیت کے خلاف بھی استعمال کرنے کے امکانات تھے۔ جس سے اخبار کے انتظامیہ کے جانی خطرات کے علاوہ چترالی معاشرے کو بہت بڑے پیمانے پر نقصانات پہنچنے کے شدید خطرات تھے۔ لیکن شکر ہے کسی بڑے سانحے سے پہلے ملزم گرفتار ہوا۔ اس میں ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ واضح رہے کہ چترال ٹائمز ڈاٹ کام چترال کا سب سے پُرانا آن لائن اخبار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں