کروڑوں ہڑپ کرنیوالا نوسرباز چترال پولیس کے ہتھے چڑھ گیا/پنجاب پولیس کو کئی کیسوں میں مطلوب ہے

چترال(محکم الدین)پنجاب پولیس کو مطلوب مبینہ طور پر کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والا شخص چترال پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی معلومات پر چترال پولیس نے چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص غلام حیدر جس کا جعلی نام یاسر یوسفزئی ہے ، کو حراست میں لے لیا ہے ، اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے خود کو مختلف سرکاری عہدوں پر ظاہر کرتے ہوئے لین دین کرکے کروڑوں روپے نقد اور گاڑیاں ہتھیا لی ہیں اور مجموعی طور پر اس نوسرباز پر آٹھ کروڑ روپے ہڑپ کرنے کا الزام ہے ۔ چترال پولیس کی طرف سے گرفتاری کے بعد راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف شہروں سے اس شخص کے ہاتھوں لٹے ہوئے افراد چترال پہنچ گئے ہیں اور اُنہیں پنجاب پولیس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ تاہم ملزم فی الحال چترال پولیس کے زیر حراست ہے اور اُن کے خلاف چترال پولیس نے تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے ۔ نو سر باز یاسر یوسفزئی کے جھانسے کا شکار ہونے والے راولپنڈی کے محمد زبیر نے میڈیا کو بتایا کہ اُس نے خود کو ایساف نام کی ایک آئل کمپنی کا ڈائریکٹر ظاہر کرکے اُن کے والد سے ایک کروڑ ایکسٹھ لاکھ روپے لئے اور فیول کم ریٹ پر مہیا کرنے کا وعدہ کیا لیکن پھر غائب ہو گئے ۔ اسی طرح بعض افراد سے دھوکا دہی کرکے گاڑیاں حاصل کیں اور اُنہیں فروخت کرکے پیسے کھالئے ۔ پولیس کو دستیاب معلومات کے مطابق ملزم نے مجموعی طور پر تقریبا آٹھ کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے ۔مذکورہ شخص نے چترال کے مقام ایون صحن سے شادی کی ہے اور شادی کے موقع پر بھی مبینہ طور پر اس نے جعلی نام کا ستعمال کیا جبکہ اُس نے شادی کے موقع پر جو گاڑی اپنی بیوی کے نام کیا تھا وہ بھی کرائے کی کار تھی ۔ پولیس نے بتایا کہ اس وقت وہ چترال میں بطور سی پیک ڈائریکٹر بڑے پیمانے پر ملازمین بھرتی کرنے اور دیگر کاروائیوں کے منصوبے بنا رہا تھا اور اسی وجہ سے اُس نے اپنی فیملی کو بھی چترال شفٹ کر دیا تھا تا کہ تسلی سے سادہ لوح نوجوانوں کو سی پیک میں ملازمت فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر لوٹا جا سکے لیکن ابھی چترال کے کسی شہری سے ملازمت دینے کے عوض پیسے لینے کے حوالے سے اُن کے خلاف کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ صرف ایک شخص سے سات لاکھ روپے قرض لئے ہیں اور رواں مہینے کی 30تاریخ تک واپس کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ ملزم غلام حیدر ( یاسر یوسفزئی) نے اپنے اوپر لگائے گئے زیادہ تر الزامات کو مسترد کیا ہے تاہم اُن کے بارے میں مزید انکشافات کا امکان ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں