بریپ میں چھ ماہ قبل قتل ہونیوالے نوجوان اسلم بیگ کے واقعے میں مبینہ طور پر اس کی بیوی ملوث

مستوج(خصوصی رپورٹ ممتاز علی منتظر)اس سال اپریل کے مہینے میں تحصیل مستوج کے گاؤں بریپ میں اپنے گھر کے اندر پر اسرار طور پر جان بحق ہونے والے اسلم بیگ ولد پردم خان کی ہلاکت بالآخر قتل ثابت ہوئی اور پولیس نے اس سلسلے میں متوفی اسلم بیگ کے بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔گذشتہ چند دنوں سے سوشیل میڈیا پر گاؤں بریپ سے تعلق رکھنے والا نوجوان اسلم بیگ کے مبینہ قتل کے متعلق خبریں وائرل ہوئیں ۔ ہم نے اپنے ذرائع سے جب اس کیس کو پرکھنے کی کوشش کی تو کچھ حقائق یوں سامنے آئے۔ 14اپریل 2017 کی رات اسلم بیگ فوت ہو گئے، انہیں 15 اپریل کو سعودی عرب جانا تھا۔ ان کے والد بسلسلہ روزگار اسلام آباد میں مقیم تھا جنہیں یہ کہہ کر بلایا گیا کہ ان کے والد یعنی اسلم بیگ کے دادا بیمار ہیں، گھر پہنچنے پر انہیں اسلم بیگ کی بوجہ ہارٹ فیل فوتگی کی اطلاع دے دی گئی اور 16 اپریل کو متوفی کی تدفین کی گئی۔ اس دوران متوفی کی بیوہ اپنے میکے (ژوپو) چلی گئی جہاں کچھ عرصے بعد اپنے پڑوسی پولیس اہلکار کے ساتھ شادی کر لی۔ اسلم بیگ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس اہلکار پہلے بھی ان کے گھر آتا رہتا تھا اور جب بھی انہوں نے اسلم بیگ کی بیوہ سے اس کے متعلق پوچھا وہ یہی بتاتی تھی کہ میرا رضاعی بھائی اور ہمسایہ ہے۔یوں اچانک ان کے شادی کرنے پر متوفی اسلم بیگ کے گھر والوں کو شک پڑ گیا اور انہوں نے 17اکتوبر 2017 کو تھانہ مستوج میں درخواست دے دیئے کہ اسلم کو مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا اور اس قتل میں اس کی بیوہ اور مذکورہ پولیس اہلکار ملوث ہیں۔جس کا ثبوت ان کی شادی ہے اور اسلم بیگ کی میت کو غسل دینے والوں نے ان کے جسم پر زخم کے نشان بھی دیکھے تھے ۔درخواست موصول کرنے کے بعد ایس ایچ او تھانہ مستوج نے ان سے کہا کہ چونکہ یہ واقعہ میری تعیناتی سے پہلے کا ہے اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور آپ چھ مہینے بعد ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں تو اس میں ایسے قانونی سقم ہیں کہ اسے 302 کا کیس ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا لہذا مجھے تحقیق کے بعد ایف آئی آر درج کرنے دیا جائے تاکہ کیس میں مصدقہ شہادت موجود ہو تاکہ آگے جا کر کیس کو ثابت کیا جا سکے۔اس سارے صورتحال میں اسلم بیگ کے ورثاء یہ سمجھ کر میڈیا میں بیان دے دیے کہ ایس ایچ او ان کی درخواست کو قابل درخور اعتنا نہیں سمجھ رہا یوں ایک آن لائن نیوز ٹائمز آف چترال میں یہ خبر رپورٹ ہو گئی۔تین دن بعد 20 اکتوبر 2017 کو مستوج پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے اسلم بیگ کی بیوہ کو گرفتار کر لیا اور ان کے شوہر پولیس اہلکار کی گرفتاری اس لیے ممکن نہ ہو سکی کیونکہ وہ اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کمانڈو کورس کے سلسلے میں اسلام آباد میں موجود ہے اس کو کیس میں شامل کرکے گرفتاری کا معاملہ اب کے پی کے پولیس، اسلام آباد پولیس، ٹریننگ سینٹر انتظامیہ اور آرمی ٹرینرز کا مشترکہ معاملہ ہے۔اس ضمن میں مستوج پولیس نے اعلیٰ حکام سے رابطے کر لیے ہیں اور بہت جلد اس میں پیش رفت ہو جائیگی۔ مستوج پولیس نے ملزمہ کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے ملزمہ کو پولیس کی حراست میں دے کر جیل بھیج دیا۔ جہاں نئے قانون کے مطابق جیل حکام کے سامنے اس سے تفتیش ہوگی۔ 25 اکتوبر کو مستوج پولیس جیل جاکر تفتیش شروع کرے گی۔ایک اور درخواست متوفی اسلم بیگ کی قبر کشائی سے متعلق پولیس نے دی ہے قبر کشائی کی اجازت کے بعد اندازہ ہو جائے گا کہ کیس کیا رخ اختیار کرتا ہے۔اس کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا اب اس لیے بھی ضروری ہے کہ تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کا قلع قمع ہو سکے اور اسلم بیگ کے ورثاء کو انصاف مل سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں