کوئی نیا ضلع نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن نے ریونیو باؤنڈریز منجمد کردئیے

اسلام آباد(نیوزڈیسک)الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 2018کے عام انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں نئے حلقہ بندیوں کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جسمیں فیصلہ کیا گیاکہ 2018الیکشن تک تمام ریونیو باؤنڈریز منجمند کئے جائیں ۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا خان کی صدارت میں ہونیوالے اس اہم اجلاس میں چاروں صوبوں سے الیکشن کمیشن کے ممبران، چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز، چاروں چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، سیکرٹری شماریات سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کیں۔ اجلاس کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربرا ہی میں اہم اجلاس عام انتخابات کی تیاریوں کی پہلی کڑی تھا، الیکشن کی تیاریوں کا کام تیز کردیا گیا ہے تاہم الیکشن کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کرسکتے۔الیکشن کمیشن نے آج سے ہی ملک بھر میں ریونیو باؤنڈریز منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب 2018 کے عام انتخا با ت تک اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔ بابر یعقوب نے کہا کہ مردم شماری کی عبوری رپورٹ الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کی گئی، سیکرٹری شماریات نے بتایا کہ صدر مملکت نے ابھی تک آئینی ترمیم پر دستخط نہیں کیے،صدرکے دستخط سے بل ایکٹ بنے گا تو مردم شماری کے عبوری نتائج ملیں گے،قانون کے تحت ہم ساڑھے 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں گے، الیکشن کمیشن نے 5 حلقہ بندی کمیٹیاں مقررکردی ہیں، حلقہ بندیوں کے پروپوزل کیلئے 45 دن رکھے ہیں، 3 صوبائی حکومتوں اورمحکمہ شماریات سے 10 جنوری تک نقشے اوردیگر مواد فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔مئی 2018 تک حلقہ بندی سے متعلق کارروائی مکمل کرلیں گے، اوراگرنقشے اوردیگر مواد جلد فراہم کردیئے گئے تو حلقہ بندیاں بھی پہلے ہوجائیں گی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کیلئے درکار عملے کیلئے آئندہ ہفتے تک بتا دیا جائیگا، 75 لاکھ نئے ووٹرز کا اندراج بھی شروع کر دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے تاہم اس کیلئے حکومتیں اپنے وسائل استعمال کریں گی۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ 22دسمبر کے بعد اضلاع، تحصیل یا یونین کونسل کی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران نئے ووٹرز کے اندراج کیلئے صوبائی حکومتوں سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشن پر جتنے کیمرے نصب کئے جائیں گے ان کے لئے وسائل کی فراہمی کا انتظام صوبائی حکومتوں کے ذمہ لگا دیا گیا ہے۔ آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کرسکتے۔ قانون کے مطابق اسمبلی کی مدت ختم ہوتے ہی انتخابات کی تاریخ کیلئے سمری صدر مملکت کو ارسال کردی جائے گی۔ رواں سال الیکشن کمیشن کو انتخابی تیاریوں کے لئے 13ارب روپے درکار ہوں گے جبکہ آئندہ سال کیلئے 8 ارب روپے کی ضرورت ہوگی، یہ پیسے شیڈول کے مطابق مل رہے ہیں، پیسوں کی کوئی کمی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں انتخابی فہرستیں پر نظرثانی کا کام شروع کردیا جائے گا۔ مردم شماری کے اعدادو شمار کی فراہمی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیکر ٹری شماریات نے اجلاس کو آگاہ کیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ ڈیٹا الیکشن کمیشن کو فراہم کردیا جائے گا۔اے پی پی کے مطابق نئے شناختی کارڈ ہولڈر کی تصدیق کا کام 15 جنوری سے 8 فروری تک مکمل کیا جائے گا۔ نئے تصدیق شدہ شناختی کارڈ ہولڈروں کی ڈیٹا انٹری کا کام 9 فروری سے 18 فروری تک مکمل ہو گا۔ اپ ڈیٹ شدہ انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ کا کام 19 فروری سے 5 مارچ تک کیا جائے گا۔ ابتدائی انتخابی فہرستیں 30 دنوں کیلئے 6 مارچ سے 4 اپریل تک مختلف ڈسپلے مراکز و رجسٹریشن آفیسرز کے دفاتر میں آویزاں کی جائیں گی۔ ان پر اعتراضات 40 دنوں میں 14 اپریل تک نمٹا ئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں