محکمہ مواصلات کے کچھ ملازمین کا مبینہ طور پر ڈیوٹی دئیے بغیر تنخواہیں لینے کا انکشاف

چترال(گل حماد فاروقی) باکمال محکمہ لاجواب سروس کا محاورہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چترال بھر میں اکثر سڑکوں پر پانی بہتا ہو ا دیکھا جاسکتا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ قلی یا دیگر اہلکار اکثر ان سڑکوں سے غائب رہتے ہیں۔ حال ہی میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال میں انکشاف ہواہے کہعملے کے کئی ارکان ایسے ہیں جن کو با اثر لوگوں کی اشیر باد حاصل ہیں اور وہ پچھلیکئی سالوں سے ڈیوٹی ہی نہیں کرتے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان کو باقاعدہ تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں جب محکمے کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ایگزیکٹیو انجینئر مقبول اعظم دفتر میں موجود نہیں تھے وہ پشاور گئے تھے تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سب ڈویژنل آفیسر طارق علی نے تصدیق کرلی کہ واقعی میں ایسے کئی سٹاف ہیں جو ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کرتے مگر ان کو باقاعدگی سے تنخواہ ملتی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی تنخواہ ابھی تک بند کیوں کیو ں نہیں کئے گئے یا انہیں نوکری سے فارغ کیوں نہیں کیا گیا تو اس سلسلے میں انہوں نے بے بسی کا اظہار کیا ۔ ان کے مطابق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے شجاع الدین روڈ قلی برنس کئی سالوں سے لاہور میں مقیم ہے جبکہ تنخواہ چترال سے لے رہا ہے۔ انہوں نے خود کویونین کا صدر بنایا ہے اور محکمے کے سیکرٹری لیول تک ان کو رسائی حاصل ہے، اس کے علاوہ رحمت بیگ روڈ قلی سکنہ سینگور، بشیر احمد روڈ قلی سکنہ سینگور، فضل الدین روڈ قلی سکنہ سینگور، رحمت قادر مالی سکنہ دنین، محمد گل، منور شاہ روڈ قلی وغیرہ کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ انہوں نے ہمارے نمائندے کو ان نوٹسس کے نقولات بھی فراہم کئے جن کے تحت فضل الدین روڈ قلی سکنہ سینگور شاہ میراندہ کو نوٹس نمبر 165/4۔E مورخہ 14.4.2015، نوٹس نمبر 661/4۔E مورخہء 27.11.2016, نوٹس نمبر 1199/4۔E مورخہ 5.12.2016 اور نوٹس نمبر 1503/4۔E مورخہ 26.10.2017 بھیجے گئے ہیں مگر ابھی تک یہ عملہ نہ تو ڈیوٹی پر آیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی ہوئی جبکہ ان کو باقاعدگی سے تنخواہ بھی مل رہی ہے۔ اس حوالے سے سی اینڈ ڈبلیو کے اکاؤنٹس آفیسر سے جب پوچھا گیا کہ جب یہ عملہ ڈیوٹی نہیں کرتے تو ان کو تنخواہ کیوں دی جاتی ہے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی بار ان کی تنخواہیں بند کی ہیں مگربعد ازاں تنخواہ ریلیز کئے جاتے ہیں۔ ان سٹاف کی غیر حاضری کی وجہ سے سڑکیں برباد ہیں، گرم چشمہ روڈ جو رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کا آبائی حلقہ بھی ہے اس پر نالی کو لوگوں نے بند کیا ہے اور پانی سڑک پر بہتا ہے۔ اس سڑک پر چلنے والے مسافروں کو نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک سماجی کارکن فیصل الٰہیکا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اس سڑک پر گزرتا ہے مگر یہاں دن بھر نالے کا گندا پانی سڑک پر بہتا ہے جس سے نہ صرف راہگیروں کو تکلیف کا سامنا ہے بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی تارکولی سڑک بھی اس پانی کی وجہ سے برباد ہورہا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ قلی اور عملہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ پروفیسر محمد دوست بھی اپنی پڑھائی کے سلسلے میں اسی سڑک سے گزرتے ہیں۔ اس حوالے سے انکا کہنا ہے کہ جگہ جگہ پانی سڑک پر بہنے سے ایک طرف سڑک تباہ ہورہا ہے تو دوسری طرف مسافروں کوبالخصوص خواتین اور بچوں کو نہایت مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور پانی سڑک پر بہنے سے روکے اور جو اہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو فارغ کرکے ان کی جگہ حق دار لوگوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ وہ کم از کم مہینے میں ایک بار تو اپنا ڈیوٹی سرانجام دیا کریں۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سابق ہیڈ کلرک الطاف حسین نے کہا کہ روڈ قلی کو جنگل میں بٹھائے ہیں جہاں وہ بکریاں پالتے ہیں اور سڑکیں برباد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے گاؤں کا بھی ایک روڈ قلی(فضل الدین) ہے مگر وہ بھی بکریاں پالتا ہے اور ایک دن کیلئے بھی ڈیوٹی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ محکمے کے اہلکاروں نے کلورٹ بند کرکے میرے زمین پر پانی بہایا ہے میں نے کئی بار شکایت بھی کی ہے مگر محکمے کے اہلکار ہونے کے باوجود بھی میری فریاد کسی نے نہیں سنی اور یہ روڈ قلی کبھی ڈیوٹی پر نہیں آئے تاکہ اس نالے اور کلورٹ کو کھول کر پانی اپنے راستے پر بہائے۔ ویلیج کونسل سینگور کے نائب ناظم نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس میں سراسر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی غلطی ہے ایک تو انہوں نے کلورٹ بہت نیچے بنایا ہے جو بار بار بند ہوتا ہے اور دوسرا ان کا عملہ گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار ہم نے رضاکارانہ طور پر اس نالے کو خود کھولا تھا مگر پھر بند ہوا۔ اس سلسلے میں جب ایگزیکٹیو انجینئر مقبول اعظم سے پوچھا گیا کہ ان پر الزام ہے کہ وہ روڈ قلیوں کو کھلی چھٹی دی ہے اور وہ ڈیوٹی نہیں کرتے ہیں تو ایکسئین نے ایسے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں ۔ انہوں نے یقین دہانی کی کہ آئندہ کیلئے روڈ قلیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے قلیوں کے خلاف سختی تادیبی کاروائی کی جائے گی۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا جو عملہ کئی سالوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں اور ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کرتے ان کو فوری طور پر فارغ کیا جائے اور ان سے پچھلے پانچ سالوں کی تنخواہیں بھی واپس لیکرقومی خزانے میں جمع کئے جائیں اور انکی جگہ نئے ایماندار لوگوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ وہ ہفتے میں ایک دن تو ان سڑکوں کی حفاظت کیا کریں بصورت دیگر عوام مجبور ہوکر ان کیخلا ف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ واضح رہے کہ سردیوں میں یہ پانی جب سڑک پر جم جاتا ہے تو انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس پر کسی بھی وقت گاڑی پھسل کر حادثے کا باعث بنتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں